Bazm e Shayeq

قلب كی بےكلی نہیں جاتی
حسن كی بے رخی نہیں جاتی

ان كے گیسو سنور نہیں سكتے
دل كی آشفتگی نہی جا تی

كتنا نازك مزاج ہے كوئی
دل كی دھڑكن سنی نہیں جاتی

میں تو ہر حال میں ہوں خوش لیكن
ان كی شرمندگی نہیں جاتی

تیری فطرت بدل نہیں سكتی
بے نیازی تری نہیں جاتی

جام پر جام پی رہا ہوں مگر
میری تشنہ لبی نہیں جاتی

وہ مرا حال سن نہیں سكتے
مجھ سے حالت كہی نہیں جاتی

عین موقع پہ شعر كہنے
كی اپنی عادت كبھی نہیں جاتی

میں ہوں قادؔر وہ بندۂ محبو ؓب
جس كی وابستگی نہیں جاتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *