Skip to main content
اك بار میری آنكھوں كو سركار دیكھنا كتنی ہے ان میں حسرت دیدار دیكھنا
كوئی نہیں ہے میرا مد دگار دیكھنا میری طرف بھی حیدر كرار دیكھنا
حاضر ہے درپہ چشمِ كرم كا امیدوار سركار دیكھنا مرے سركار دیكھنا
سركار آپ رحمتِ عالم كا عكس ہیں سہا ہوا ہے كتنا گناہگار دیكھنا
ہے دین سلسلے كی ، یہ ارماں كا سلسلہ جی میں ہے ان كی سمت لگا تار دیكھنا
جو محو دید جلوۂ مشكل كشا ہوا آساں ہے اس كو حسن كے اسرار دیكھنا
مولا سبہی كے آپ بنائےگئے حضور میری طرف بھی حید ر كرار دیكھنا
جب تك علیؓ كے دركی غلامی نہ ہو نصیب ممكن نہیں توشۂ دیوار دیكھنا
ہے شا ِن مرتضائی كے قاد ؔر خلاف یہ اپنے غلام كو كبھی لاچار دیكھنا
اچھا ہے یا برا ہے مگر آپ ہی كا ہے قاد ؔر بھی آپ كا ہے پرستار دیكھنا