Skip to main content

Bazm e Shayeq

 

مسدس اول

خدا کا شکر دل مبتلا سلامت ہے
انہیں کا ہے یے کرم جن کے در سے نسبت ہے
نظر میاں کی ، غلاموں پہ حسب عادت ہے
کھلی ہیں سینکڑوں راہیں کھلی کرامت ہے

وہی جو گرتے ہوئے کو سنبھال لیتے ہیں
جو ڈوبتے کو بھنور سے نکال لیتے ہیں

وہی کہ جن کی عنایت نزولِ رحمت ہے
وہی کہ جن کے تصور میں خیر و برکت ہے
وہی کہ جن کے اشارے میں خرق عادت ہے
وہی کہ جن کا تصرف خدا کی قدرت ہے

جو خود سے دور خدا سے قریب ہوتے ہیں
قسم خدا کی عجیب و غریب ہوتے ہیں

سرِ نیاز میں کیا کیا ہیں ناز کیا کہئے
جو فاش بھی ہوں نہاں بھی وہ راز کیا کہئے
جو سوز ہی سے ہو پیدا وہ ساز کیا کہئے
جو خود ہی قبلہ ہو اس کی نماز کیا کہئے

کمال عجز ہے ، تعمیر کبریائی کی
ہے عبدیت مترادف یہاں خدائی کی

چہ صورتیست کہ ممدوح مدح خوانِ خدا
چہ نعمتیست کہ مطلوب طالبانِ خدا
چہ دلبرے کہ تمنائے عاشقانِ خدا
چہ بندۂ کہ خداوند بندگان خدا

بہ اوجِ معرفتش دامن خرد چاک است
وفور عجز فی الادراک عین ادراک است

کچھ اور عرض کریں کیا زبان قاصر ہے
جو کیفیت ہے یقیناً سمجھ سے باہر ہے
اسی پہ ہم کو یقیں ہے جو چیز ظاہر ہے
یہ عام بات ہے قادر کا عبد قادر ہے

انہیں کو سارے زمانے کا پیر کہتے ہیں
انہیں کو دادرس و دستگیر کہتے ہیں

یہی وہ ہیں جنہیں کہتے ہیں شاہ جیلانی
خدا کو پیار ہیں ، خلق خدا ہے دیوانی
یہیں ہے دولتِ دارین کی فراوانی
یہیں سے ہوتی ہیں حل مشکلیں بآسانی

خیال غوث کو جو چھوڑ دے وہ خاطی ہے
کہ ہر برے کے برے وقت کا یہ ساتھی ہے

رہے زمانہ مخالف اگر ہزار رہے
غلام ، یاد سے مالک کی ہوشیار رہے
امیدوار ہمیشہ امید وار رہے
بکار دست رہے اور دل بیار رہے

کمال لطف و کرم کا ظہور ہوتا ہے
برا بھی اک دن اشرفؔ ضرور ہوتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *