Bazm e Shayeq

 

مسدس نمبر چھ

خدا کی یہاں خاص رحمت ہے آج
وہی شان جشن ولادت ہے آج
وہی پھر خوشی ہے مسرت ہے آج
وہی رنگ پھر حسبِ عادت ہے آج

تعلق جو کل تھا وہی آج ہے
وہی ہے عنایت ، وہی لاج ہے

خودی کھو کے بندہ خدائی کرے
غریبوں کی عقدہ کشائی کرے
فقیری میں بھی بادشائی کرے
دو عالم پہ فرماں روئی کرے

مزا یہ جو پائے وہی پاسکے
اسے کوئی سمجھے نہ سمجھا سکے

مجسم ظہور کمالات ہے
وہی چاند اور چاندی رات ہے
وہی گفتگو ہے وہی بات ہے
وہی ہیں صفات اور وہی ذات ہے

رسولوں کے آقا کی تصویر ہیں
بڑے پیر بے شک بڑے پیر ہیں

تڑپ کر پکاروں تو آتے ہیں یہ
مصیبت سے غم سے چھڑاتے ہیں یہ
غریبوں کی بگڑی بناتے ہیں یہ
وہ قدرت کے جلوے دکھاتے ہیں یہ

پہنچتے ہیں یوں وقت پر تھامنے
کہ جیسے رہا کرتے ہیں سامنے

بڑا مرتبہ اور عظمت ملے
دو عالم کی شان اور شوکت ملے
یہاں سر جھکاؤ تو عزت ملے
جو مانگو وہ ان کی بدولت ملے

گدا کوئی ، محروم جاتا نہیں
نعم ہی نعم ہے یہاں لا نہیں

بیاں کس سے ہو مرتبہ آپ کا
ادب کرتے ہیں اولیاء آپ کا
کرے کیا کوئی سامنا آپ کا
رسول آپ کے ہیں خدا آپ کا

گدا آپ کے واقف راز ہیں
غلام آپ کے عرش پرواز ہیں

ہیں جس شان کے سب پہ ظاہر ہیں آپ
گہے عبد ہیں ، گاہ قادر ہیں آپ
غلاموں کی حالت کے ناظر ہیں آپ
مدد کو برے وقت حاضر ہیں آپ

بڑے دادرس دستگیر آپ ہیں
علی کل شئی قدیر آپ ہیں

فدا دل ہو قرباں جگر آپ پر
نچھاور ہو میری نظر آپ پر
نگاہیں ہوں شام و سحر آپ پر
تصدق مرا گھر کا گھر آپ پر

ہے امید صد التفات آپ سے
ہے وابستہ ہر ایک بات آپ سے

ازل سے غلام ایسے سرور کے ہیں
وہ اشرفؔ ہیں جو بندے اس در کے ہیں
حقیقت میں اچھے مقدر کے ہیں
گدا ہی سہی ، پر بڑے گھر کے ہیں

بڑا زور حسنِ عقیدت میں ہے
سمجھ ہے تو ہر چیز قدرت میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *