Bazm e Shayeq

مسدس نمبر نو

کیا مسرت ہے کہ دل حاضر ہے آج
جان اپنے آپ سے باہر ہے آج
آمد آمد کس کی ہے ظاہر ہے آج
جلوہ فرما عبد میں قادر ہے آج

کیا بیاں ہو اس سراپا حال کا
شوق کعبہ کو ہے استقبال کا

صدرِ بزم عالمِ افلاک ہیں
اچھے اچھے ان کے در کی خاک ہیں
قرۃ العین شہِ لولاک ہیں
یعنی ہر وہم و گماں سے پاک ہیں

ان کا سودا سالکوں کی فکر ہے
تذکرہ ان کا مکمل ذکر ہے

غور سے دیکھو تو ہے دن رات ایک
ہیں جدا اوصاف لیکن ذات ایک
ہر جگہ ہے قاضی الحاجات ایک
لفظ چاہیں جو بھی ہوں ہے بات ایک

مختلف حل ہیں معمہ ایک ہے
اسم لاکھوں ہیں مسمّی ایک ہے

کس قدر پائے خرد میں لنگ ہے
ہم تو ہم سارا زمانہ دنگ ہے
خاص بندے کا نرالا ڈھنگ ہے
بندگی کیا ہے خدائی رنگ ہے

موجزن بحر صفات و ذات ہے
خرقِ عادت داخلِ عادات ہے

دن ولادت کاہے روزِ عید ہے
ان کے قدموں سے بڑی امید ہے
یہ سہارا قدرتی تائید ہے
جلوۂ قادر خدا کی دید ہے

ذاتِ مطلق اور پھر تقیید میں
کس قدر آسانیاں ہیں دید میں

سہل ہر مشکل بآسانی ہوئی
کیا بتاؤں کیا مہربانی ہوئی
مشکلِ محبوبی میں تابانی ہوئی
جلوہ فرما ذات سبحانی ہوئی

قدرت قادر بہر تقدیر ہیں
ہر زمین و ہر زماں کے پیر ہیں

آدمی جو دل سے ان کا ہو گیا
اس کا جو مقصد ہے پورا ہو گیا
دو جہاں میں بول بالا ہو گیا
بد سے بد اچھے سے اچھا ہو گیا

ان کا بندہ کب کسی سے پست ہے
مست آنکھوں کی بدولت مست ہے

ہر مصیبت میں نظر آتے ہیں یہ
کام کیسا ہی ہو کام آتے ہیں یہ
ڈوبتے کو کھینچ کر لاتے ہیں یہ
کوئی تڑپا تو تڑپ جاتے ہیں یہ

جن کی ادنی دستگیری کرتے ہیں
وہ فقیری میں امیری کرتے ہیں

اے پریشاں حال عرض حال کر
دل سے ان کی دھن کا استقبال کر
خود کو ان کی یاد میں پامال کر
جو بھی کرنا ہو ، بالاستقلال کر

ہو کے مضطر اس درِ دولت کو دیکھ
قادری سرکار کی قدرت کو دیکھ

بے اثر ہیں دنیوی سب توڑ جوڑ
اے دل ان کے راستے سے منہ نہ موڑ
جان دیدے اس تعلق کو نہ توڑ
کچھ بھی ہو یہ دامنِ عالی نہ چھوڑ

عشق ان کا نعمتِ کونین ہے
ان سے نسبت دولت دارین ہے

اولیاء اللہ کا سلطان یہ
اپنی یہ تحقیق ہے ، عرفان یہ
دل یہ اپنا ہے تو اپنی جان یہ
اشرفؔ اپنا دین یہ ایمان یہ

لوٹ جا ان کی گلی کی خاک پر
ہو فدا نقشِ قدمِ پاک پر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *