میں حور پہ مائل ہوں نہ شیدا ہوں پری کا
دیوانہ ہوں مدت سے رسولِ عربی کا
میں امتی تیرا ہوں مگر دور ہوں تجھ سے
ائے پیارے محمد مجھے رونا ہے اسی کا
پروانہ صفت جلتی ہیں سب غیر کی شکلیں
اللہ رے انداز مرے دل کی لگی کا
طیبہ میں مروں دفن ہوں اس پاک زمیں میں
حسرت یہی دل کی یہی ارمان ہے جی کا
محشرمیں کفن پھاڑکے اس شان سے آؤں
غل اٹھے وہ دیوانہ چلا اپنے نبی کا
ہوں جس کے طرفدار قیامت میں محمد
اللہ کی قسم اس کا نہ ہو بال بھی بیکا
بیداری میں یا خواب میں اے خالق اکبر
دیدار ہو حاصل مجھے مکی مدنی کا
محبوب کا جب وصل مقرر ہے پس مرگ
کیونکر نہ کہوں موت کا دن’ دن ہے خوشی کا
احباب و اقارب بھی ہیں اچھے رہیں گر ہم
سچ ہے کہ برےوقت نہیں کوئی کسی کا
قبلے کا بھی قبلہ ہے مزار شہ والا
جنت سے فزوں رتبہ ہے طیبہ کی گلی کا
سنی ہوں مسلمان ہوں شیدا ہوں ازل سے
صدیقؓ کا فاروقؓ کا عثمانؓ و علیؓ کا
خادم بھی ہے عاشق بھی ہے شیدا بھی ہے شائقؔ
مکی مدنی ہاشمی ومطلبی کا
Mai hoor pe ma’el hooN na sheda hooN pari ka
Dewaana hooN muddat se rasool e arabi ka