انداز یہ ہے قبلۂ عالم کے گدا کا
محتاج دوا کا ہے نہ طالب ہے دعا کا
اللہ کے بندے کسی منزل کے ہوں کچھ ہوں
رخ دیکھتے رہتے ہیں مدینے کی ہوا کا
ڈالیں یہ بلاؤں میں نکالیں یہ بلا سے
ان مست نگاہوں میں سلیقہ ہے بلا کا
کچھ بھی نہیں بیمارِ محبت کے گلے میں
ایک نقش عطا کیجئے نقشِ کفِ پا کا
بن جائے عبادت تو تعجب ہی نہیں ہے
انداز یہ ہے عشق و محبت میں خطا کا
اشرفؔ اجل آئی ہے تری یاد ہوئی ہے
کیا شکر ادا اس کا ہو جس نے تجھے تاکا