مسدس دوم
جتنے ہیں حاضرین بہت بآدب رہیں
ہر سانس میں ہو نامِ خدا بند لب رہیں
یوں اپنے اپنے شغل میں مشغول سب رہیں
دربار غوثیہ ہے سراپا طلب رہیں
بحر فیوض جشن ولادت ہے جوش میں
مولی سنبھالئے کہ رہیں اپنے ہوش میں
مضطر تھے شوقِ دید میں کیا لیل کیا نہار
ہر دیدہ تھا کھلا ہوا ہر دل تھا بے قرار
باقی رہا جہاں کو نہ جب تاب انتظار
یوں دی صدا نقیب فلک نے کہ ہوشیار
انجم تو کیا مجال نہیں مہر و ماہ کی
سب سرنگوں رہیں کی سواری ہے شاہ کی
آمد ہے آج صاحبِ تاج و سریر کی
آمد ہے آج مظہرِ رب قدیر کی
آمد ہے آج دادرس و دستگیر کی
آمد ہے آج سارے زمانہ کے پیر کی
بجنے کو ہے جہان میں لا عینکم کا ساز
کھلنے کو ہے انا بشر مثلکم کا راز
بالکل وہی مقام سکونت نہ ہو تو کیا
ہادی تو ہیں جدید شریعت نہ ہو تو کیا
ابنِ رسول تو ہیں رسالت نہ ہو تو کیا
نائب تو ہیں نبی کی نبوت نہ ہو تو کیا
ہر اک صفت وہی ، وہی تنویر ذات ہے
آتی جو ہے سمجھ میں نہ کہنے کی بات ہے
سج دھج وہی ، جمال وہی ، ناز بھی وہی
حقانیت کا سوز وہی ، ساز بھی وہی
وحدانیت کا رمز وہی ، راز بھی وہی
بانکی نظر وہی لبِ اعجاز بھی وہی
اجمال ما سبق ہو کہ تفصیل حالیہ
ہے منبع جمیع صفات کمالیہ
وہ پیشوا علی کے یہ پیرو علی کے ہیں
وہ بحر بے کنار یہ موتی اسی کے ہیں
مالک وہ دو جہاں کے یہ آقا سبھی کے ہیں
نبیوں کے وہ نبی یہ ولی ہر ولی کے ہیں
محبوب ہے محبّ ہے سراپا ودود ہے
قصہ یہ مختصر ہے کہ جد کا وجود ہے
لو لگ گئی ہے مہر مدینہ کی ماہ سے
ہے فقر میں بھی ناز کہ نسبت ہے شاہ سے
اعمال میں اثر نہ توقع ہے آہ سے
امید ہے تو صرف کرم کی نگاہ سے
فضل خدائے پاک ترا التفات ہے
اک لفظِ قم میں مردہ دلوں کی حیات ہے
اے رحمتِ خدا کے پیارے ادھر تو دیکھ
شاہِ نجف کے راج دلارے ادھر تو دیکھ
امت کے بیکسوں کے سہارے ادھر تو دیکھ
پیروں کے پیر ، پیر ہمارے ادھر تو دیکھ
سب آئے ہیں کہ جائیں دل و جان وار کر
آنکھیں تو کھول تیرِ نظر سے شکار کر
کچھ اپنے ہاتھ سے میری جھولی میں ڈال دے
اوروں کی طرح در سے گدا کو نہ ٹال دے
ہے کشتی حیات بھنور میں نکال دے
تکنے لگے زمانہ وہ دل دے وہ حال دے
حیران ہوں تمام کہ یہ کیا تماشہ ہے
دنیا پکار اٹھے کہ غوث الوری کا ہے
اے اولیاء کے شاہ عنایت کی اک نظر
مشہور ہوچکا ہوں ترا جاؤں میں کدھر
بندہ پہ ہو تمام جہاں تنگ و پر خطر
مالک کی شان وہ کہ ہے سلطان بحروبر
لو اس لئے لگائی نہیں تھی غلام نے
تیرا کہائے اور جھکے سب کے سامنے
کیا عرض حال ہو کہ عجب کارخانہ ہے
بیداد اگر فلک ہے تو دشمن زمانہ ہے
آفات کا شمار ہے حد ہے ٹھکانہ ہے
عمر رواں مگر ہے کہ یوں ہی روانہ ہے
لطف و کرم کا اپنے تماشہ دکھائیے
اشرفؔ غلام ہے اسے اشرف بنائیے