مسدس سوم
زمانہ ہے موافق قطب ربانی کا صدقہ ہے
مقدر مہرباں ہے غوث صمدانی کا صدقہ ہے
کرم اللہ کا محبوب سبحانی کا صدقہ ہے
یہ سارا ما لکِ فیضان ربّانی کا صدقہ ہے
وہی ڈھب زندگی کے ہیں وہی سودا وہی سر ہے
وہی جمعیت خاطر ہے وہی میں ہوں وہی گھر ہے
ہے بے شک اولیاء اللہ میں ان کا بڑا پایہ
خدا غم خوار ہے اس شخص کا جوان کا غم کھایا
حفاظت میں خدا کی ہو جو اس دربار میں آیا
یقیناً ان کا سایہ ہے تن بے سایہ کا سایہ
بہت قادر ہیں یہ گرتے ہوئے کو تھام لینے پر
بڑی قدرت ہے قدرت سے اچانک کام لینے پر
ابھی تک ہے وہی بغداد کی تصویر آنکھوں میں
منور ہے اِدھر سینہ اُدھر تنویر آنکھوں میں
بسی جس دن سے درگاہِ جنابِ پیر آنکھوں میں
مسرت کے اشارے کر گئی تقدیر آنکھوں میں
عنایت کرتا ہوں خوشی سے پھول جاتا ہوں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود کو بھول جاتا ہوں
گدا اس آستاں کے دولت عرفاں لٹاتے ہیں
یہ وہ در ہے جہاں اللہ والے سر جھکاتے ہیں
خداسے ڈرنے والے اس جگہ بھی کانپ جاتے ہیں
تصور ان کا اکثر طالبِ مولا جماتے ہیں
جو ان کا ہو رہے اس شخص کی قسمت چمکتی ہے
رضائے حق بھی ان کی جنبش ابرو کو تکتی ہے
یہ چوکھٹ نورِ عین شمع بزم انبیاء کی ہے
یہاں حاضر رہا کرنے کو حاجت اولیاء کی ہے
یہاں کے سالکوں کی ابتدا بھی انتہا کی ہے
حقیقت میں عجب دربار ہے قدرت خدا کی ہے
بڑا دانا ہے جو اس شاہ کا دیوانہ بناتا ہے
بڑی پرواز والا ہی یہاں پروانہ بنتا ہے
مصیبت میں اگر داعی ضرورت ہو نوازش کی
یہ وہ دربار ہے حاجت نہیں اس جا گزارش کی
یہاں اصلا نہیں ہے قدر کچھ اظہار خواہش کی
ذرا سی بھی نہیں ہے منزلت لفظی نمائش کی
دلی تکلیف سے آنسو بہا لینا ہی کافی ہے
وہ سب کچھ جانتے ہیں سر جھکا لینا ہی کافی ہے
مدد اُن سے طلب کرنے کو دل والوں کی حاجت ہے
جگر کی ٹیس کی اور قلب کے چھالوں کی حاجت ہے
نم آنکھوں کی ضرورت دکھ بھرے نالوں کی حاجت ہے
پریشاں حال کے بکہرے ہوئے بالوں کی حاجت ہے
یہ خاصان خدا میں یوں ہیں جیسے چاند تاروں میں
مسیحائی ہے ٹھوکر میں تصرف ہے اشاروں میں
جنابِ پیر ہے قطبِ دوعالم قطب ربانی
جنابِ پیر ہیں غوثِ زمانہ غوث صمدانی
جنابِ پیر پیراں ہیں جہاں کے پیر لاثانی
جناب پیر شاہ دین و دنیا شاہِ جیلانی
جو اس معشوق کا عاشق ہو دنیا اس کی عاشق ہو
جو اس محبوب کا ہو جائے محبوبِ خلائق ہو
دو روزہ زندگی ہے کچھ نہ کچھ تو کر گزرنا ہے
بگڑنے سے نہ ڈر اے دل تجھے یوں ہی سنورنا ہے
اسی سایہ میں رہ کر ہم اپنا کام کرنا ہے
اسی دامن کی ٹھنڈی چھاؤں میں جینا ہے مرنا ہے
اگر اشرف ہے تیرا نام قرباں ہو فدا ہو جا
غبارِ راہ بن کر ان کے دامن تک رسا ہوجا