مسدس نمبر آٹھ
لطف ہے جلسئہ ولادت کا
ذوق ہے ذکر با سعادت کا
پھر وہی کیف ہے طبیعت کا
پھر وہی حال ہے عنایت کا
دادرس دستگیر آتے ہیں
ساری دنیا کے پیر آتے ہیں
ان کی صورت نبی کی صورت ہے
ان کا سایہ خدا کی رحمت ہے
ان کا دستِ کرم کرامت ہے
ان کی دھن کم سے کم عبادت ہے
ان کا ہر ذکر سب سے اعلی ہے
کرم غوث فضلِ مولی ہے
پھر وہی شاندار چتون ہے
وہی رفعت وہی بڑا پن ہے
تن بے سایہ سایہ افگن ہے
جب تو یہ پاؤں سب کی گردن ہے
جلوہ فرما بہ صد تعلّی ہے
مالک الملک کی تجلی ہے
کنت کنزا کی شان رکھتے ہیں
جب تو یہ آن بان رکھتے ہیں
لامکاں میں مکان رکھتے ہیں
یہ پتہ یہ نشان رکھتے ہیں
ایسے پیارے ہیں حق کے پیاروں میں
جس طرح چاند ہے ستاروں میں
ہے بجا جو بھی ان پہ ناز کرے
خم بہ منت سرِ نیاز کرے
درمقبولیت کو باز کرے
ان کا ہر کام کارساز کرے
جو ہو ان کا وہ بد نہیں ہوتا
واسطہ ان کا رد نہیں ہوتا
یوں سہارا غلام لیتے ہیں
وقت پر ان کا نام لیتے ہیں
بڑھ کے دامن کو تھام لیتے ہیں
شانِ قدرت سے کام لیتے ہیں
عرش اعظم مقام ہے ان کا
دونوں عالم میں نام ہے ان کا
باغ کونین کی بہار ہیں یہ
شہر عرفاں کے شہریار ہیں یہ
سارے ولیوں کے تاجدار ہیں یہ
ہم غلاموں کے ذمہ دار ہیں یہ
سچ ہے میدان اس نے مار لیا
جس کسی نے اُنہیں پکار لیا
اِن کا ہر کام قدرت اُس کی ہے
لطف اِن کا عنایت اُس کی ہے
اِن کی طاعت عبادت اُس کی ہے
اِن کا منشاء مشیت اُس کی ہے
حق کو پائے جو اُس میں کھو جائے
وہ ہے اُس کا جو اِن کا ہو جائے
کیا کہے اشرفؔ اور تفصیلات
مختصر سے ہے مختصر یہ بات
غوث اعظم ہیں قبلئہ حاجات
یعنی سرکار ہیں فنا فی الذات
اپنا بے شک بڑا مقدر ہے
ایسے مالک کا ہاتھ سر پر ہے