Bazm e Shayeq

 

مسدس نمبر دس

مبارک ہو غلاموں کو مسرت آمد آمد کی
مرے سرکار اک تصویر ہیں نورِ مجرد کی
وہی سج دھج وہی شکل و شباہت جد امجد کی
تمنا ہے قدم چوموں بلائیں لوں کھڑے قد کی

وفورِ شادمانی سے کلیجہ چاک ہوجائے
تڑپ کر جان دے ڈالوں کہ قصہ پاک ہوجائے

ہو دولت مند جو وابستہ دامان دولت ہے
کرم جس پر ہوا وہ صاحب کشف و کرامت ہے
ریاضت یاد ہے ان کی خیال ان کا عبادت ہے
تصدق اس درِ دولت پہ ہوجانا شہادت ہے

رسائی ان کے گھر کی عرشِ اعظم تک رسائی ہے
سمجھ کر بندگی کی جائے تو خاصی خدائی ہے

ولایت کا انہیں سب اولیاء سلطان کہتے ہیں
علی کا لختِ دل اور فاطمہ کی جان کہتے ہیں
رُخ انور کو ارباب نظر قرآن کہتے ہیں
جو دل والے ہیں اپنا دین اور ایمان کہتے ہیں

یقیناً سب سے پیارے ہیں خدا کے ماہ پاروں میں
ہے شمع بزمِ محبوباں مہ تاباں ستاروں میں

محی الدین جیلانی سہارا ہے زمانے کا
کہ سارے سلسلوں میں فیض ہے اس آستانے کا
ٹھکانہ ان کا گھر ہے آج بھی ہر بے ٹھکانے کا
خدا ہے خانساماں اس خدائی کارخانے کا

تڑپ کر جو پریشاں حال ان کا نام لیتا ہے
اچانک بڑھ کے اس کو دستِ قدرت تھام لیتا ہے

مرے آقا مرے مالک مرے محبوب سبحانی
ہے دریا انقلاب دہر کا مائل بہ طغیانی
نہیں باقی رہی ہے زندگی میں کوئی آسانی
کرم سرکار میرے سرسے اونچا ہو گیا پانی

بہر صورت بچانا آپ کی مشہور عادت ہے
بری ہے یا بھلی ہے آپ کے نانا کی امت ہے

جسارت اس جگہ کیا کر سکے کوئی سفارش کی
مجال اتنی کہاں اشرفؔ کرے جرأت گزارش کی
مگر بے چین کر دیتی ہیں امیدیں نوازش کی
یہ دیکھا بارہا پوری ہوئی جس نے جو خواہش کی

مجھے معلوم ہے دونوں جہاں کی بادشاہی ہے
ہوائے دامنِ لطف و کرم فضلِ الہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *