مسدس نمبر سات
حاضر جشن ولادت ہیں زمانے والے
کس عقیدت سے چلے آتے ہیں آنے والے
سرنگوں بیٹھے ہیں لو اپنی لگانے والے
جلوہ گر ہوتے ہیں بگڑی کے بنانے والے
قرۃ العین رسول عربی آتے ہیں
دھوم ہے ہاشمی و مطلبی آتے ہیں
آئے ہیں شاہ مدینہ سے خلافت لے کر
خلعت شاہی اقلیم ولایت لے کر
جلوہ فرما ہیں وہی شکل و شباہت لے کر
معجزے آئے کرامات کی صورت لے کر
جن میں بو رحمت عالم کی ہے یہ وہ گل ہیں
مالک الملک کے محبوب ہیں شیخ الکل ہیں
حق کے مطلوب ہیں معشوق ہیں دلدار ہیں یہ
سر یہاں سارے جھکاتے ہیں وہ سرکار ہیں یہ
اولیاء قافلہ ہیں قافلہ سالار ہیں یہ
گلشن احمد مختار کے مختار ہیں یہ
ان کی مرضی جو ہے منشاء وہی تقدیر کا ہے
حکم اللہ کا ارشاد بڑے پیر کا ہے
ہو جو ان کا تو زمانہ کرے عزت اس کی
ایسی ہوتی رہے قدرت سے حمایت اس کی
پاسبانی کرے اللہ کی رحمت اس کی
لوگ سب وجد کریں دیکھ کے حالت اس کی
بادشہ ہے جو گدا ان کی گلی میں ٹک جائے
سب کا سردار ہے جو ہاتھ پہ ان کے بک جائے
پیر ہیں دولتِ عرفاں کے لٹانے والے
وقت بے وقت ہیں امداد کو آنے والے
ہر مصیبت سے غلاموں کو بچانے والے
تم سلامت رہو مردوں کو جلانے والے
لا تخف لب پہ سدا وقت مڈ رکھتے ہیں
کیونکہ لاخوف علیھم کی سند رکھتے ہیں
جس کسی وقت مصیبت میں غلام آتا ہے
غیب سے لطف و عنایت کا پیام آتا ہے
سہل ہوجاتا ہے مشکل بھی جو کام آتا ہے
لب پہ یکدم شہِ بغداد کا نام آتا ہے
دل تڑپ کر جو دے آواز تو حاضر یہ ہیں
بندے قادر کے ہیں ہر چیز پہ قادر یہ ہیں
کرم اے غوث زمانہ ترا اشرف ہے غریب
اس کو ہر حال میں رکھ دامن دولت کے قریب
تو طرفدار اگر ہو تو چمک جائیں نصیب
اس میں کیا شک تری قدرت کے تماشے ہیں عجیب
فضلِ مولی ہو اگر جنبش ابرو ہوجائے
اس طرف ساری خدائی ہو جدھر تو ہوجائے