Skip to main content

Bazm e Shayeq

مسد س پنجم

قادری میں ہوں بڑا اللہ کا احسان ہے
مالک ایسی شان کا ملنا کہیں آسان ہے
جان دل سے ہے فدا دل جان سے قربان ہے
مجھ سا گندہ ان کا بندہ کیا خدا کی شان ہے

عمر اپنی اِس تصور میں بسر کرتا ہوں میں
گرد بن بن کر طواف رہ گزر کرتا ہوں میں

وہ کہ گھر گھر دھوم ہے دنیا میں جن کے نام کی
وہ کہ جن کے آستاں پر سرنگوں ہے ہر ولی
وہ کہ اولاد حسن آل حسین ابن علی
وہ کہ جانِ شاہ مرداں ، قرۃ العین نبی

غوثِ اعظم شاہ جیلاں قطب ربانی ہیں یہ
پیر کل پیروں کے ہیں ، محبوب سبحانی ہیں یہ

رحمت عالم سراپا ہیں جناب غوث پاک
از حوادث بندگانِ آستانش راچہ باک
صاحبانِ دل کو ان کی یاد میں ہے انہماک
سرمئہ اہل نظر ہے اس درِ دولت کی خاک

مرتبہ رکھتے ہیں خاصان خدا میں شاہ کا
ان کو جو ارشاد ہے ارشاد ہے اللہ کا

جمع کی ہیں خوبیاں قدرت نے ان کی ذات میں
ہو بہو تصویر اپنے جد کی ہیں عادات میں
جو پریشاں حال گِھر کر آتے ہیں حاجات میں
ان کی حتی الوسع ملتا ہے جواب اثبات میں

ان کا گھر ہے آستانہ قاضی الحاجات کا
موجزن ہے اس جگہ دریا صفات و ذات کا

جو بنے ان کا اُسے اپنا بنالیتے ہیں یہ
بد سے بد کو اپنے سایہ میں بٹھالیتے ہیں یہ
ہر کٹھن موقع پہ سینے سے لگا لیتے ہیں یہ
کوئی صورت ہو بہر صورت بچا لیتے ہیں یہ

وقت کیسا ہی ہو کیسی ہی بلا کا سامنا
ان کا ادنی کام ہے گرتے ہوئے کو تھامنا

اے غلام قادری ، قادر کا دامن تھام لے
پیش آجائے کوئی مشکل تو ان کا نام لے
اپنے حسبِ حوصلہ قدرت سے ان کی کام لے
با ادب استادہ ہوجا سر جھکا احکام لے

کام چل جائے جہاں بھی نام ان کا لے کے چل
چلنے والے دستِ قدرت کا سہارا لے کے چل

دل پراگندہ نہ کر اس راستہ سے منھ نہ موڑ
بے اثر ہیں بے اثر دنیا کے سارے توڑ جوڑ
دیکھ اے دستِ طلب یہ دامن عالی نہ چھوڑ
ان سے نسبت کیفیاتِ باطنی کا ہے نچوڑ

سرزمیں بغداد کی قبلہ ہے خاص و عام کا
پڑھتے آئے ہیں وظیفہ سب انہیں کے نام کا

کیسے قسمت جاگتی ہے ان کی دھن میں سوکے دیکھ
ان کی بخشش کے تماشے اپنا سب کچھ کھوکے دیکھ
کون دل پر ہاتھ رکھ دیتا ہے مضطر ہوکے دیکھ
کون تیرے پونچھنے آتا ہے آنسو رو کے دیکھ

جب حوادث ڈال دیتے ہیں خلل اوسان میں
یا مریدی لا تخف کہتا ہے کوئی کان میں

الغیاث اے غوث الاعظم المد د پیروں کے پیر
آپ تو مشہور ہیں ، ہیں بیکسوں کے دستگیر
آپ کا اشرفؔ گلی کا آپ کی ہو کر فقیر
اس قدر بے چین اتنا خستہ حال ایسا حقیر

کچھ سہی اس کو تعلق آپ کے در سے تو ہے
دور کی نسبت سہی ، پر آپ کے گھر سے تو ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *