مسدس چہارم
شکر کی جا ہے نزول رحمت باری ہے آج
بچے بچے پر بھی خاصی کیفیت طاری ہے آج
بارک اللہ قلب اہلِ بزم کا جاری ہے آج
کس قدر جذبات کی دنیا میں بیداری ہے آج
جو نظر ہے انتظار دید کی تشہیر ہے
جو ادا ہے انتہائے شوق کی تصویر ہے
کھچ کر آئے ہیں محبت کا ہے دریا جوش میں
سینکڑوں افسانے ہیں پنہاں لب خاموش میں
یہ سراپا شوق کب باقی ہیں اپنے ہوش میں
پرورش پائے ہوئے ہیں عشق کی آغوش میں
کیفیت دل کی بروں از حیطئہ ادراک ہے
عاشقوں کا راز بھی وہم و گماں سے پاک ہے
کوئی پہلی سانس سے بھرنے کو ہے وحدت کا دم
ساز حادث ہے مگر اس میں ہے آواز قِدم
دیکھ کر فطرت کا یہ انداز میلان کرم
حسرتیں گھبرا کے ہو جاتی ہیں امیدوں میں ضم
پھر تعلق بڑھ رہا ہے آسماں والے کے ساتھ
پھر مکاں والے ملیں گے لامکاں والے کے ساتھ
لے کے آیا ہے دوا کوئی دل بیمار کی
لزتیں ملنے کو ہیں شیرینی گفتار کی
آنکھ متوالی ہوئی ہے دولتِ دیدار کی
کھنچ گئی تصویر گویا احمد مختار کی
شان مطلق رونما ہے جامہ تقلید میں
دیکھنے والوں کو ہے کافی سہولت دید میں
تازہ پھر ہونے کو ہے پچھلا سبق ایمان کا
پھر مکر دور ہے سی پارۂ قرآن کا
آنے والے کا بھی آنا ہے نرالی شان کا
بہر استقبال حاضر چاند ہے رمضان کا
بیعتِ رضواں جو تھی تکمیل ہمت کے لئے
پھر وہی دن آئے ہیں تجدید بیعت کے لئے
شمع روشن ہو رہی ہے وجد میں پروانے ہیں
کیا مجسم قیس اور فرہاد کے افسانے ہیں
محو ایسے ہیں کہ اپنے آپ سے بیگانے ہیں
کس کی پیدائش کے یہ پیدائشی دیوانے ہیں
دل نکل پڑتا ہے قدموں تک رسائی کے لئے
ہوش اڑتے ہیں کہ پہنچیں پیشوائی کے لئے
آج پیمانے میں ہے مئے کے عوض آبِ حیات
دل کے آئینے میں ہوتی ہے نمایاں کائنات
بندہ حل کرنے کو آیا ہے خدائی کے نکات
آئی ہے اوڑھے ہوئے چادر صفت کی عین ذات
واجب اور امکان میں پرلطف سمجھوتا ہے آج
عبد کی صورت میں قادر جلوہ گر ہوتا ہے آج
ہم غلاموں کو مبارک ہو یہ پیدائش کا دن
شب بڑے ارمان کی شب دن بڑی خواہش کا دن
علم اور دانشِ کی شب ہے فہم و فہمائش کا دن
شب جو زیبایش کی شب ہے دن ہے آرائش کادن
اے خزاں رخصت ، کہ آئی ہے بہارِ زندگی
آج سے کچھ اور ہیں لیل و نہارِ زندگی
جلوۂ عکس رخ قادر خدا کی دید ہے
اس کے دامن کا سہارا قدرتی تائید ہے
اے خیال غوث دل میں آ کہ روز عید ہے
مردہ دل کو تیرے قدموں سے بڑی امید ہے
ہم کہ سب سے بڑھکے بد اعمال ہیں ، بدکار ہیں
اس لئے سب سے زیادہ رحم کے حقدار ہیں
گو بہت غربت میں ہیں ، پر بندۂ سرکار ہیں
آپ ہی کے تو چمن کے ہیں اگر چہ خار ہیں
ہم تو ظاہر ہے بہت مجبور ہیں لاچار ہیں
آپ لیکن جانشین احمد مختار ہیں
المدد یا سیدی بگڑی ہوئی ہر بات ہے
آبرو تھوڑی سی ہے جو آپ ہی کے ہاتھ ہے
شمع بزم قدسیاں اے جشن عرفاں کے سراج
آپ ہی کے نام کا ہے دین اور دنیا میں راج
گرچہ نازک تر ہوا کرتا ہے شاہوں کا مزاج
پھر مکر ر عرض ہے رکھنا غریبوں کی بھی لاج
آپ ہی کا نور ہے کیا مہر میں کیا ماہ میں
آپ اشرفؔ ہیں تمامی اولیاء اللہ میں