رحم بندوں پہ اے مرے اللہ
تو ہے کون و مکاں کا شانہشاہ
ہم ہیں حد درجہ بے سر و سامان
اور تو ہے رحیم اور رحمان
یاد سے تیری بہرہ ور ہوں نفوس
یا علی یا کریم یا قدوس
سب سے اول ہے سب سے آخر ہے
یعنے وہم و گماں سے باہر ہے
سب کو اک تری ذات ہے کافی
یاخدا تو سلام تو شافی
ہوکے ہم تیرے کیوں رہیں حیران
تو کہ حنان اور ہے منان
نہیں تیرے شریک کا امکان
میرے دیان اے مرے سبحان
تیرا ہر کام سب سے نادر ہے
مقتدر ہے قدیر و قادر ہے
دشمنوں پر ہے منتقم قہار
دوستوں پر غفور اور غفار
تو ہے رازق اور تو باقی
تجھ کو زیبا ہے شان رزاقی
متکبر ہے ذات بے ہمتا
نام اکبر ہے شان ہے اعلی
مست کردے پلاکے حب کی شراب
اے مرے خالق اے مرے وہاب
کردے اک خاص کیفیت تاری
کیونکہ تو ہے مصور و باری
صاحب حلم ہے علیم ہے تو
عادل و حافظ و عظیم ہے تو
تو ہی منعم ہے تو ہی رافع ہے
ضار تو ہی ہے تو ہی نافع ہے
مری سن لے مرے سمیع و بصیر
لے خبر میری یا لطیف و خبیر
ہم غریبوں سے ہے ظہور ترا
شکر ہے شاکر و شکور ترا
جلوہ نزدیک دور ہے ترا
نام بے شبہہ نور ہے ترا
رکھ ہدایت پہ کر نہ بربادی
تو مضل اور تو ہی ہے ہادی
تو احد اور تو ہی ہے واحد
تو حمید اور واجد و ماجد
تیرے ہی نور سے ہے رات اور دن
تو ہی ان میں ہے ظاہر و باطن
کیا کہوں رب العلمین ہے تو
یعنی ذوالقوة و متین ہے تو
کونسی جائے تجھ سے خالی ہے
تو متعالی ہے اور والی ہے
ذرے ذرے سے کب بعید ہے تو
مالک الملک ہے رشید ہے تو
سہل کردے حساب میرے حسیب
میری سن لے مرے حفیظ و مجیب
بر و مقسط ہے تو جلیل ہے تو
میرا واسع مرا وکیل ہے تو
کونسی چیز ترے ہاں کم ہے
تو موخر ہے تو مقدم ہے
تو ہی تو ہے نہیں ہے کوئی غیر
یا بدیع العجائب و بالخیر
سب کو محبوب ہے حبیب ہے تو
معطی و مغنی و رقیب ہے تو
سب سے میرا بلند کر کردار
یا قوی یا کبیر یا جبار
تو ممیت اور تو ہی محیی ہے
تو معید اور تو ہی محصی ہے
نعمتیں دے مجھے اے ذوالانعام
یا غنی ذوالجلال والاکرام
رحم فرما کہ بندہ نادم ہے
تو ہی وارث ہے تو ہی حاکم ہے
جان یہ تیری اور یہ دل تیرا
تو معز اور تو مزل ٹھرا
حامی ہر جا مرا ضرور ہے تو
میں جو صابر ہوں تو صبور ہے تو
دل سے تیرے کرم پہ ہوں قانع
ہے ترا حکم جامع و مانع
میری بر آئیں خوہشات دلی
تو ہے خالق اور تو مہدی
ہر خفی تو ہے اور ہر جلی تو ہے
والی و عفو ہے ولی تو ہے
تو ودود اور تو حکیم بھی ہے
ہے یہ مشہور تو حلیم بھی ہے
دل میں ہو تیری ہستئ معلوم
لب پہ یا حی ہو اور یا قیوم
اپنے محبوب کا تصدق دے
دھوم مچ جائے وہ تعلق دے
معرفت کا وہ جام دے بھرکر
ہر پرستار جی اٹھے مرکر
اک جھلکتی ہوئی نظر کردے
میں ہوں ذرہ مجھے قمر کردے
دوستی اپنی کر عطا مجھ کو
اپنا کر لے تو اے خدا مجھ کو
پاک کر میرا ظاہر و باطن
سرخرو کردے آخرت کے دن
درگزر کر مری خطائوں سے
ڈھانپ دے ڈھانپ دے عیوب مرے
مالک الملک ہے تو اے سرور
در تیرا چھوڑ کر میں جاؤں کدھر
دین و دنیا میں کچھ رہے نہ ہوس
اتنا دے اتنادے کہ کہدوں بس
اپنادے عشق اپنا رکھ مشتاق
دے مجھے لذت و صال و فراق
اپنا دے ذوق و شوق یا اللہ
رہوں تیری ہی دھن میں شام و پگاہ
کوئی میرا نہیں سوا تیرے
میری فریاد رس مری سن لے
کر مجھے غیر کا نہ دست نگر
اپنی قدرت سے کردے صاحب زر
کس زباں سے کروں میں شکر ادا
تیرے انعام و فضلِ بے حد کا
اے مرے کردگار تیرا شکر
مرے پروردگار تیرا شکر