سننے والوں سے سنو طرز بیانِ مصطفی
بات کرتا ہے خدا اور زبانِ مصطفی
رحمت باری کا باعث ہے بیانِ مصطفی
خوش نصیبی اس کی ، جو ہے مدح خوانِ مصطفی
زیبِ تن کمبل مگر ہیں دو جہاں زیر نگیں
ظا ہرا یہ فقر ، باطن میں یہ شانِ مصطفی
پر بچھاتے تھے فرشتے ، ساتھ رہتا تھا خدا
جس طرف سے بھی گزرتا کاروانِ مصطفی
لاکھ عاصی ہوں مگر اتنا گیا گزرا نہیں
خار ہوں لیکن ہوں خارِ بوستانِ مصطفی
اللہ اللہ امت عاصی کا اور اتنا خیال
امتی ہر وقت تھا وردِ زبانِ مصطفی
اپنے دل کا حال اشرفؔ ہم کسی سے کیا کہیں
کہتے ہیں اللہ کا گھر ہے مکانِ مصطفی