جھنڈا چرھا ہے حضر تِ پیرا نِ پیرؓ كا
سایہ ہے میرے گھر پہ مرے دستگیرؓ كا
آجا تے ہیں مد د كو غلاموں كی میر ے پیر
شہرہ ہے جابجا مرے روشن ضمیر كا
ٹھوكر سے كتنے مردے جلائے ہیں آپ نے
ادنیٰ سا یہ كرشمہ ہے پیروں كے پیرؓ كا
پھیلایا جس نے ہاتھ اسے سب عطا ہوا
كچھ امتیاز ہے نہ امیر و فقیر كا
قادر جسے حضور كا دامن ہوا نصیب
وہ بختیار بندہ ہے رب قدیر كا