مسدس نمبر ایک
مسدس اول خدا کا شکر دل مبتلا سلامت ہے انہیں کا ہے یے کرم جن کے در سے نسبت ہے نظر میاں کی ، غلاموں پہ حسب عادت ہے کھلی ہیں سینکڑوں راہیں کھلی کرامت ہے وہی جو گرتے ہوئے کو سنبھال لیتے ہیں جو ڈوبتے کو بھنور سے نکال لیتے ہیں وہی کہ […]
ربا عی: ایسا نہیں کوئی جو سنبھالے سرکار Aisa nahi koi jo sambhale Sarkar
ایسا نہیں کوئی جو سنبھالے سرکار اشرف ہے اب آپ کو حوالے سرکار بندہ ہے ذرا خیال رکھنا اس کا سرکار مرے مدینے والے سرکار Aisa nahi koi jo sambhale Sarkar Ashraf hai ab aap ke hawale Sarkar Banda hai zara khayal rakhna iss ka Sarkar mere Madine wale Sarkar
ربا عیا ت Rubaiyat
ربا عیا ت بنتی نہیں کوئی بات میں سے تو سے منتر سے غرض ہے نہ مطلب چھو سے ہے قادر مطلق میرا مالک اشرفؔ ہر کام لے لا الہ الا ھو سے ********** کرنہ دنیا میں پائمال مجھے یوں نہ ہونے دے خستہ حال مجھے لاج اب تیرے ہاتھ ہے میری میں برا ہوں […]
نعت شر یف: کُل نبیوں کے سالار بنے یہ آن یہ عظمت کیا کہئے
کُل نبیوں کے سالار بنے یہ آن یہ عظمت کیا کہئے دو عالم کے مختار بنے یہ شان یہ شوکت کیا کہئے جس پر ہوں کھلے اسرارِ خدا ، جس پر ہوں عیاں انوارِ خدا حاصل ہو جسے دیدارِ خدا ، وہ چشم بصیرت کیا کہئے اللہ کا جو دم بھرتا ہے ، جو اس کی طلب میں مرتا ہے وہ بندہ خدائی کرتا ہے تاثیرِ ارادت کیا کہئے میلاد کے جلسوں سے ہمدم جو روح کو تازہ کرتے ہیں سرکارِ دو عالم کی ان پر کتنی ہے عنایت کیا کہئے اشرفؓ جو عقیدت رکھتے ہیں ، ایمان کی دولت رکھتے ہیں قادر سے جو نسبت رکھتے ہیں ، کیا ان کی ہے قدرت کیا کہئے
نعت شر یف: سننے والوں سے سنو طرز بیانِ مصطفی
سننے والوں سے سنو طرز بیانِ مصطفی بات کرتا ہے خدا اور زبانِ مصطفی رحمت باری کا باعث ہے بیانِ مصطفی خوش نصیبی اس کی ، جو ہے مدح خوانِ مصطفی زیبِ تن کمبل مگر ہیں دو جہاں زیر نگیں ظا ہرا یہ فقر ، باطن میں یہ شانِ مصطفی پر بچھاتے تھے فرشتے ، ساتھ رہتا تھا خدا جس طرف سے بھی گزرتا کاروانِ مصطفی لاکھ عاصی ہوں مگر اتنا گیا گزرا نہیں خار ہوں لیکن ہوں خارِ بوستانِ مصطفی اللہ اللہ امت عاصی کا اور اتنا خیال امتی ہر وقت تھا وردِ زبانِ مصطفی اپنے دل کا حال اشرفؔ ہم کسی سے کیا کہیں کہتے ہیں اللہ کا گھر ہے مکانِ مصطفی
نعت شر یف: اپنی جھلک دکھلانا مدینے والے Naat e Shareef: Apni jhalak dikhlaana Madine wale
اپنی جھلک دکھلانا مدینے والے الجھی ہوئی سلجھانا مدینے والے شربتِ دید پلانا مدینے والے اتنا کرم فرمانا مدینے والے طیبہ میں ہم کو بلانا مدینے والے کہیں نہیں ہے ٹھکانہ مدینے والے بد ہیں بُرے ہیں پر ہیں تمہارے حشر کے دن بخشوانا مدینے والے اشرفؔ کا تم بِن کوئی نہیں ہے بندہ ہے بھول نہ جانا مدینہ والے Apni jhalak dikhlaana Madine wale Uljhi huwii suljhaana Madine wale Sharbat-e-deed pilaana Madine wale Itna karam farmaana Madine wale Taiba mei.n hamko bulaana Madine wale Kahi.n nahi.n hai thikaana Madine wale Bud hai.n burei hai.n per hai.n tumhaare Hashr ke din bakshwaana Madine wale Ashraf ka tum bin koi […]
نعت شر یف: شافع محشر ، رحمت یزداں صلی اللہ علیہ وسلم
شافع محشر ، رحمت یزداں صلی اللہ علیہ وسلم ماہ منور ، مہر درخشاں صلی اللہ علیہ وسلم وحدت کا پیغام سنایا ، گمراہوں کو راہ پہ لایا شمع ہدایت ، حامل قرآں صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کرم ہر دکھ کی دوا ہے ، ان کی عنایت فضل خدا ہے قبلۂ ایماں ، کعبۂ عرفاں صلی اللہ علیہ وسلم دل پہ ہے کندہ نام محمد ، میری مراد اور میرا مقصد میری تمنا ، میرا ارماں صلی اللہ علیہ وسلم اشرفؔ کے سب کام بنائیں ، خواب میں آئیں جلوہ دکھائیں دل ہو تصدق ، جان ہو قرباں صلی اللہ علیہ وسلم
نعت شریف: دل حسرت زدہ مایوس کیوں ہے سوئے طیبہ چل Dil-e-hasrat zada mayoos kyu.n hai soo-e-Taiba chal
دل حسرت زدہ مایوس کیوں ہے سوئے طیبہ چل حبیب کبریا سے عرض کر اپنی تمنا چل سنا ہے بیکسوں کا پوچھنے والا ہے طیبہ میں سہارا ہے وہ سب کا اور تو ہے بے سہارا چل مدینے میں دوا ہر درد کی تقسیم ہوتی ہے وہاں ہر ایک کی فریاد کا ہے سننے والا چل گل مقصود سے بھرتا ہے جو دامن غریبوں کا اسی سے التجا کر تھام لے دامن اسی کا چل جہاں دولت لٹائی جارہی ہے دین و دنیا کی وہاں آنکھوں سے اپنی دیکھ ، قدرت کا تماشا چل تصور جب کبھی کرتا ہوں میں ریگستان بطحا کا مجھے چلتی ہوئی باد صبا کہتی ہے چل آ چل در اقدس ہے جس کا منبع فیضان روحانی اسی دربار میں اشرفؔ سنانے حال اپنا چل Dil-e-hasrat zada mayoos kyu.n hai soo-e-Taiba chal Habib-e-Kibriya se arz kar apni tamana chal Suna hai baikaso.n ka puchne wala hai Taiba mei.n Sahaara hai wo sab ka aur tu hai […]
ربا عی Rubayee
بنتی نہیں کوئی بات میں سے تو سے منتر سے غرض ہے نہ مطلب چھو سے ہے قادر مطلق میرا مالک اشرفؔ ہر کام لے لا الہ الا ھو سے ********** ایسا نہیں کوئی جو سنبھالے سرکار اشرف ہے اب آپ کو حوالے سرکار بندہ ہے ذرا خیال رکھنا اس کا سرکار مرے مدینے والے سرکار ********* کرنہ دنیا میں پائمال مجھے یوں نہ ہونے دے خستہ حال مجھے لاج اب تیرے ہاتھ ہے میری میں برا ہوں مگر سنبھال مجھے
مناجات: تجھے دیکھا کروں ایسی نظر دے
تجھے دیکھا کروں ایسی نظر دے وہ دل وہ حوصلہ دے وہ جگر دے گزارش ، عرض ارماں کام میرا تیری وہ شان جو چاہے تو کردے مری آنکھوں کے پیمانہ تصدق اب ان میں دولت دیدار بھر دے طلب میں تیری جب آنسو رواں ہوں ان اشکوں کے عوض لعل و گہر دے مرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے مرے مالک مرے دامن کو بھردے پئے دامان اشرفؔ اے مسیحا ہوائے دامن خیر البشر دے