Manqabat: ہوں گنہگار مگر چھوٹ کے دنیا بھر سے Hon Gunahgaar magar choot ke dunya bhar se…
ہوں گنہگار مگر چھوٹ کے دنیا بھر سے ہوں گنہگار مگر چھوٹ کے دنیا بھر سے لو لگائے ہوئے جاتا ہوں کسی کے در سے اب بجز تیرے کرم کے نہیں حامی کوئی اٹھ گئی آج نظر سارے زمانے پر سے دستگیری مری اے دست شہہ جیلانی بوجھ وہ ہے جو اتارا ہی نہ جائے […]
مسدس نمبر دس
مسدس نمبر دس مبارک ہو غلاموں کو مسرت آمد آمد کی مرے سرکار اک تصویر ہیں نورِ مجرد کی وہی سج دھج وہی شکل و شباہت جد امجد کی تمنا ہے قدم چوموں بلائیں لوں کھڑے قد کی وفورِ شادمانی سے کلیجہ چاک ہوجائے تڑپ کر جان دے ڈالوں کہ قصہ پاک ہوجائے ہو […]
مسدس نمبر نو
مسدس نمبر نو کیا مسرت ہے کہ دل حاضر ہے آج جان اپنے آپ سے باہر ہے آج آمد آمد کس کی ہے ظاہر ہے آج جلوہ فرما عبد میں قادر ہے آج کیا بیاں ہو اس سراپا حال کا شوق کعبہ کو ہے استقبال کا صدرِ بزم عالمِ افلاک ہیں اچھے اچھے ان کے […]
مسدس نمبر آٹھ
مسدس نمبر آٹھ لطف ہے جلسئہ ولادت کا ذوق ہے ذکر با سعادت کا پھر وہی کیف ہے طبیعت کا پھر وہی حال ہے عنایت کا دادرس دستگیر آتے ہیں ساری دنیا کے پیر آتے ہیں ان کی صورت نبی کی صورت ہے ان کا سایہ خدا کی رحمت ہے ان کا دستِ کرم کرامت […]
مسدس نمبر سات
مسدس نمبر سات حاضر جشن ولادت ہیں زمانے والے کس عقیدت سے چلے آتے ہیں آنے والے سرنگوں بیٹھے ہیں لو اپنی لگانے والے جلوہ گر ہوتے ہیں بگڑی کے بنانے والے قرۃ العین رسول عربی آتے ہیں دھوم ہے ہاشمی و مطلبی آتے ہیں آئے ہیں شاہ مدینہ سے خلافت لے کر خلعت شاہی […]
مسدس نمبر چھ
مسدس نمبر چھ خدا کی یہاں خاص رحمت ہے آج وہی شان جشن ولادت ہے آج وہی پھر خوشی ہے مسرت ہے آج وہی رنگ پھر حسبِ عادت ہے آج تعلق جو کل تھا وہی آج ہے وہی ہے عنایت ، وہی لاج ہے خودی کھو کے بندہ خدائی کرے غریبوں کی عقدہ کشائی […]
مسدس نمبر پا نچ
مسد س پنجم قادری میں ہوں بڑا اللہ کا احسان ہے مالک ایسی شان کا ملنا کہیں آسان ہے جان دل سے ہے فدا دل جان سے قربان ہے مجھ سا گندہ ان کا بندہ کیا خدا کی شان ہے عمر اپنی اِس تصور میں بسر کرتا ہوں میں گرد بن بن کر طواف رہ […]
مسدس نمبر چار
مسدس چہارم شکر کی جا ہے نزول رحمت باری ہے آج بچے بچے پر بھی خاصی کیفیت طاری ہے آج بارک اللہ قلب اہلِ بزم کا جاری ہے آج کس قدر جذبات کی دنیا میں بیداری ہے آج جو نظر ہے انتظار دید کی تشہیر ہے جو ادا ہے انتہائے شوق کی تصویر ہے کھچ […]
مسدس نمبر تین
مسدس سوم زمانہ ہے موافق قطب ربانی کا صدقہ ہے مقدر مہرباں ہے غوث صمدانی کا صدقہ ہے کرم اللہ کا محبوب سبحانی کا صدقہ ہے یہ سارا ما لکِ فیضان ربّانی کا صدقہ ہے وہی ڈھب زندگی کے ہیں وہی سودا وہی سر ہے وہی جمعیت خاطر ہے وہی میں ہوں وہی گھر […]
مسدس نمبر دو
مسدس دوم جتنے ہیں حاضرین بہت بآدب رہیں ہر سانس میں ہو نامِ خدا بند لب رہیں یوں اپنے اپنے شغل میں مشغول سب رہیں دربار غوثیہ ہے سراپا طلب رہیں بحر فیوض جشن ولادت ہے جوش میں مولی سنبھالئے کہ رہیں اپنے ہوش میں مضطر تھے شوقِ دید میں کیا لیل کیا نہار ہر […]